اُس کا در چٹے پانی پر کھلتا تھا

اُس کا در چٹے پانی پر کھلتا تھا

کاٹھ کے پل کے آمنے سامنے

وہاں وہ ننھی منی سندری

سدا اکیلی رہتی تھی

اور اُس کا کوئی یار نہ تھا —-

نظم: تزے۔ یے

(والٹ وٹمین کے شعری مجموعے ’’لیوزآف گراس‘‘ مطبوعہ 1891-92ء سے ’’کراسنگ بروکلین فیری‘‘ کا ترجمہ۔ 1965ء میں ناصر کا ظمی نے امریکن سنٹر لاہور کے ایما پر کنیتھ ایس لن کے مرتب کردہ مضامین کے مجموعے ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ کا ترجمہ کیا، جو اُردو مرکز لاہور کے زیراہتمام شائع ہوا۔ تزے۔ یے نظم اسی کتاب ’’دی امیریکن سوسائٹی‘‘ سے اخذ کی گئی ہیں ۔)

ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s