اس خرابے میں یہ دِیوار کہاں سے آئی

دفعتہ دل میں کسی یاد نے لی انگڑائی
اس خرابے میں یہ دِیوار کہاں سے آئی
آج کھلنے ہی کو تھا دردِ محبت کا بھرم
وہ تو کہیے کہ اچانک ہی تری یاد آئی
نشہِ تلخیٔ ایام اُترتا ہی نہیں
تیری نظروں نے گلابی بہت چھلکائی
یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دُنیا میں
پھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائی
یوں تو ملنے کو وہ ہر روز ہی ملتا ہے مگر
دیکھ کر آج اُسے آنکھ بہت للچائی
ڈوبتے چاند پہ روئی ہیں ہزاروں آنکھیں
میں تو رویا بھی نہیں ، تم کو ہنسی کیوں آئی
رات بھر جاگتے رہتے ہو بھلا کیوں ناصر
تم نے یہ دَولتِ بیدار کہاں سے پائی
ناصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s