پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب ۔ انتظار حسین

باصِر کاظمی کے طور سے کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ اسے پتہ چل گیا تھا کہ نامور باپ کا بیٹا ہونا کچھ ایسا سہل نہیں ہے۔ اس میں بے شک کچھ سہولتیں بھی ہیں مگر بیٹا اگر سمجھدار ہے تو اسے مشکلات کا بھی ادراک ہونا چاہیے:

اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش

پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب

فخر اِس حد تک تو بجا ہے مگر فخر کے ساتھ یہ بھی پتا ہونا چاہیے:

بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی

ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ

دُور اندیش بیٹے تویہ کرتے ہیں کہ باپ والے رستے ہی سے کنی کاٹ جاتے ہیں، اپنا راستہ اس سے ہٹ کر نکالتے ہیں۔ باصِر نے یہ دُور اندیشی نہیں دکھائی۔ شاعری میں قدم رکھا اور بیچ کھیت غزل کہنی شروع کردی۔ ہاں ایک عقلمندی کی، باپ کے شہر کو چھوڑ دیا۔ اِس شہر کے بارے میں تو شاعر نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ

ع گلی گلی مِری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

دوسرے شاعروں کے ہاں بے شک شہر کی کوئی معنویت نہ ہو، ناصِر کی شاعری میں تو ہے اور بہت ہے۔ اِس شہر کو چھوڑنے کا مطلب تھا، ناصِر کے ہاں شعری تجربے کا جو رنگ تھا اُس سے ایک آبرومندانہ فاصلہ قائم کرنا۔اِس نئے مجموعے کو دیکھ کراحساس ہوا کہ باصِر کی نقل مکانی کا تجربہ ضائع نہیں گیا۔اِس سے اُس کے شعری تجربے کا رنگ کچھ بدل گیا ہے۔ویسے یہ کوئی لازم تو نہیں ہے کہ ایسی تبدیلی شاعری میں اعلانیہ نظر آئے۔وہ تو شاعری کے اندرسرایت کرجاتی ہے۔پھر احتیاط سے پڑھنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے۔سو باصِر کی یہ شکایت برحق ہے:

میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں

پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح

… جس تبدیلی کامیںذکرکر رہاتھااس کے کچھ بدیہی اشارے اِس شاعری میں نظرآجائیںگے۔کتنے ایسے شعرہیںجوچغلی کھاتے ہیںکہ شاعر اپنے دیارسے دوردیارِغیرمیںبیٹھاایک مختلف آب وہوا میں سانس لے رہا ہے۔نئی نعمتوں کے میسر آنے پر خوش ہے اورگمشدہ نعمتوں کے لیے ترس رہا ہے۔ان گمشدہ نعمتوںمیں سب سے بڑھ کر دھوپ کی نعمت ہے:

ہوتے ہیں عموماََ یہ مری دھوپ کے دشمن

بادل مجھے خوش آتے ہیں برسات کی حد تک

ہم کہ جو ہر ابر کو ابرِ کرم سمجھا کیے

آگئے اِس دیس میں اور دھوپ کو ترسا کیے

اور اب اِس تقابل میںچھوڑے ہوئے اپنے شہر کی قدر سمجھ میں آرہی ہے:

یہ شہر تمہارا مری بستی کے مقابل

اچھا ہے مگر صرف عمارات کی حد تک

یا یہ کہ:

لاکھ آسائشیں پردیس مہیا کر دے

ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی

اور یہ جو باصِر نے کہا ہے کہ

حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مِری

ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں

اِس سے مجھے خیال آرہا ہے کہ یہاں سے جو خلقت نقل مکانی کر کے اللہ میاں کے پچھواڑے جاکر آباد ہوئی ہے اس کی حالت بدلی بھی ہے تو کس رنگ سے۔ ارے اپنی شاعری ہی کو لے لو۔ مشاعروں کی روایت دیارِ غیر میں جاکر اور زور پکڑ گئی مگر عجب ہوا کہ یہاں سے جو روایتی غزل دامن میں لے کر گئے تھے وہ وہاں جا کر مزید روایتی بن گئی اور جو یہاں سے دامن میں تھوڑی سی ملائیت گرہ میں باندھ کر لے گئے تھے وہ وہاں جا کر تہذیبی شناخت کے نام پر اور زور پکڑ گئی بلکہ بگڑ کر قیامت بن گئی۔ سو بات صرف اتنی نہیں ہے کہ ع ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں،بلکہ یوں ہے کہ

اہلِ دنیا یہاں جو آتے ہیں

اپنے انگارے ساتھ لاتے ہیں

اور کتنے ہمارے یہاں کے انگارے وہاں کی خرابیوں سے شہ پا کر آگ بن گئے۔ اور ہاں ایک بات اور۔اُس دیار میں بیٹھ کر اپنے دیار کی طرف دیکھیں تو دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ ہماری دھوپ چھائوں اور دل بادل تو خیر ہوئے مگر ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور اِس زمیں کو کیا سے کیا بنا دیا ہے تو یہ زاویہء نگاہ بھی اِس بدلے ہوئے شعری تجربے میں جھلکتا نظر آئے گا۔

(اقتباس از ’پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب‘۔ ’اپنی دانست میں‘، انتظار حسین، سنگِ میل، لاہور، 2014 )

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s