ہمدردی کا ایک ننھا سا پُل ۔ سائمن فلیچر

‘A Little Bridge of Sympathy’

Simon Fletcher

(For Basir Sultan Kazmi)

ہم باہمی معاملات پر بات کرتے ہیں ،

جبکہ گفتگو چوکڑیاں بھرتی ہے

مثلِ غزال کمرے میں اور

فرازہ کھانا پکاتی ہے اور وجیہہ

’ریڈرز آف دی لوسٹ آرک( خزانوں کے متلاشی)‘ دیکھتی ہے،

ہماری بات چیت سے اُدھر، دوسرے کمرے میں ۔

تمہارے مرحوم والد، عظیم گفتگو کرنے والے،

لاہور کی گلیوں میں گھومتے ہیں

تمہارے ذہن میں ، اپنے صاف گو دوستوں کے ہمراہ

رات کے پچھلے پہر؛

تمہارے دادا، کلف لگے ہوئے فوجی لباس میں

سُرخی مائل بھوری تصویر میں نظر آتے ہیں ۔

میں تمہیں بتاتا ہوں کھیتوں میں کام کرنا

اپنے والد کے ساتھ، فصل کاٹنا،

پھل توڑنا، ہل چلانے کی مشقّت، جبکہ

میرے دادا چائے پیتے ہیں

ایک خاص سیاست دان کے ساتھ؛ یہ سب کچھ

حافظے کے محدّب عدسے میں سے گزر کر آتا ہے۔

اپنے ’گمشدہ خزانوں ‘ کے متلاشی، ہم

کئی برسوں اور زبانوں کو عبور کر کے پہنچتے ہیں

ہمدردی کے پل بنانے۔

ماضی ایک دوسرا مُلک ہے،

بے شک، اور جو کچھ ہم نے وہاں کیا؛

لیکن اصل بات وہ ہے جو ہم دونوں اب کرتے ہیں ۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s