کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں

معلوم ہے کہ وہ تو ملے گا نہیں کہیں
کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں
شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں
جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں
اک دوسرے کو دیکھتے ہیں آئینے کی طرح
ہو جائیں روبرو جو کبھی دو حسیں کہیں
مقصود اِس سے اہلِ نظر کا ہے اِمتحاں
وہ سامنے نہیں ہے مگر ہے یہیں کہیں
شہروں میں اپنے گویا قیامت ہی آگئی
اڑ کر مکاں کہیں گئے باصرِؔ مکیں کہیں
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s