کب سے خواہش تھی کہ میں لکھوں سلامِ شبیرؑ

مہرباں آج ہوئے مجھ پہ امامِ شبیرؑ

صبرِایّوبؑ میں ہے ضربِ علیؑ کا سا وصف

تیغ کی طرح چمکتی ہے نیامِ شبیرؑ

جائے سجدہ میں ملیں جادۂ جنّت کے سراغ

دل میں تیرے جو اُتر جائے پیامِ شبیرؑ

اہلِ ایمان کی ہر صبح ہے صبحِ عاشور

ان کی ہر شام کا عنوان ہے شامِ شبیرؑ

وقت پڑنے پہ کہیں شمر کے ہمراہ نہ ہوں

ویسے کہتے تو ہیں ہم خود کو غلامِ شبیرؑ

میرے حصّے میں بھی ہوتی یہ حیاتِ جاوید

نامۂ رشک ہے یہ خِضرؑ بنامِ شبیرؑ

آبِ زمزم کی طرح سہل نہیں اِس کا حصول

جامِ کوثر کے لیے شرط ہے جامِ شبیرؑ

شرط ہے راہبری تا بہ شہادت باصرؔ

محض ورثے میں ملا کس کو مقامِ شبیرؑ

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s