چھپتی پھرتی ہے صبا پھولوں میں

دُور سایہ سا ہے کیا پھولوں میں
چھپتی پھرتی ہے صبا پھولوں میں
اِتنی خوشبو تھی کہ سَر دُکھنے لگا
مجھ سے بیٹھا نہ گیا پھولوں میں
چاند بھی آ گیا شاخوں کے قریب
یہ نیا پھول کھِلا پھولوں میں
چاند میرا ہے ستاروں سے الگ
پھول میرا ہے جدا پھولوں میں
چاندنی چھوڑ گئی تھی خوشبو
دھوپ نے رنگ بھرا پھولوں میں
تتلیاں قمریاں سب اُڑ بھی گئیں
میں تو سویا ہی رہا پھولوں میں
رُک گیا ہاتھِترا کیوں باصرِؔ
کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s