پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک

اعمالِ کج کریں گے تعاقب قبور تک
پیچھا نہ اس کے بعد بھی چھوڑیں گے دور تک
کچھ اور جاگ لینے دے اے شامِ زندگی
سونا ہے اس کے بعد تو صبحِ نشور تک
اپنا وہی سوال تھا اُس کا وہی جواب
کیا کیا نہ کوہ دیکھے ہمالہ سے طور تک
گذرے گا کیسے کیسے مدارج سے کیا خبر
لمبا سفر ہے خاک کے ذرے کا نور تک
غافل ہیں اِس قدر کہ گذرتا ہے یہ گمان
ہم کو جگا نہ پائے گی آوازِ صور تک
باصِرؔ کہاں ہیں روز کے وہ ہمسفر مرے
خالی پڑی ہوئی ہے سڑک دور دور تک
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s