پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطَب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
تارِ گیسو یا رگِ گُل سے ہوئے ہم بے نیاز
دار تک جب آ گئے عاشق رسن کوئی بھی ہو
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
ہیں جو پُر از آرزو ہوتے نہیں محتاجِ مے
رات دن مخمور رکھتی ہے لگن کوئی بھی ہو
ہے کسی محبوب کی مانند اُس کا انتظار
دیدہ و دل فرشِ رہ مشتاقِ فن کوئی بھی ہو
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصِر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اُسے بزمِ سخن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں باصرِؔ بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s