ورنہ ہونی تھی کہاں مجھ سے یہ خارا شکنی

شعر کہلاتی ہے مجھ سے تِری شیریں سخنی
ورنہ ہونی تھی کہاں مجھ سے یہ خارا شکنی
تُو نے جس طرح بھی دیکھا مجھے یہ کیا کم ہے
میری تصویر تری آنکھ کے پردے پہ بنی
خوش ہوئے ایک ادا پر تو کیا دِل اِنعام
ہم تہی دست حقیقت میں ہیں کِس درجہ غنی
دھیان رہتا ہے سدا غم کدہء خلوت کا
راس کِس طرح سے آئے ہمیں خوش انجمنی
لاکھ آسائشیں پردیس مہیّا کر دے
ہے غریب الوطنی پھر بھی غریب الوطنی
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s