نظموں کے تراجم کے حوالے سے ایک ضروری نوٹ

میں نے درج ذیل نظموں میں سے بیشتر کے منظوم تراجم بھی کیے لیکن وہ قدرے مصنوعی اور بے تاثیر لگے۔ اِس کے علاوہ،وزن پورا کرنے کے لیے کچھ ایسے الفاظ استعمال کرنا پڑ رہے تھے جو زائد تھے اور اصل متن سے بھی دور کر رہے تھے۔ بعض اوقات نثر کی موسیقی نظم کی غنائیت سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اس کی ایک انتہائی مثال یہ ہے کہ انجیل اور قرآن کے منظوم تراجم پڑھتے وقت مسلسل ایسا لگتا ہے جیسے کوئی انسان ہم سے مخاطب ہے جبکہ نثری تراجم کی خواندگی میں بہت سے مقامات پر غیبی آواز سنائی دیتی محسوس ہوتی ہے۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s