میرے دوست: باصِر اور سائمن دیبجانی چیٹرجی

دو یار زِیرک و از بادہء کہن دو منے

فراغتے و کتابے و گوشہء چمنے

شمس الدین محمد حافظ

حافِظ، تجھے تھی بادہء عمدہ کی آرزو

فرصت کی اور کتاب کی۔۔۔ یہ تیری دولتیں !

اِک گوشہء چمن بھی تِری خواہشوں میں تھا،

دو دوستوں کی بزم مگر شرطِ اوّلیں ۔

سو دیکھ رشک سے مجھے دو دوستوں کے ساتھ

اِک شرقِ نرم دوسرا سرگرم غرب سے

معمور اِن کے دم سے مِرا ساغرِ سرُور

یہ ہیں مِری کتاب مِرا گلشنِ سکون۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s