موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا

موجب رنگِ چمن خونِ شہیداں نکلا
موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا
ٹھوکریں کھائی ہیں اتنی کہ اب اپنے دل سے
شوقِ آوارگیِ دشت و بیاباں نکلا
ہم بہت خوش تھے کہ جاگ اٹھی ہے اپنی قسمت
آنے والا کسی ہمسائے کا مہماں نکلا
ہے عجب بات کہ جس رستے پہ ہم چل نکلے
گھوم پھر کر وہ سرِ کوچہء جاناں نکلا
بے حسی نے جو کبھی فرصتِ غم دی ہم کو
ایک سیلاب نہفتہ تہِ مژگاں نکلا
چارہ گر خطرۂ جاں کہتے تھے جس کو باصرِؔ
وہی غم باعثِ آرامِ رگِ جاں نکلا
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s