مرو کے ایک نوجوان کی حکایت جس نے حضرت سیّد مخدوم علی ہجویری ؒ کے حضور آ کر دشمنوں کے ستم کی فریاد کی ۔ (از ’اسرار و رموز‘، علّامہ محمد اقبال)

سیّدِ ہجویرؒ مخدومِ اُمم

جس کا مرقد پیرِ سنجر کو حرم

چھوڑ کر کہسار آیا ہند میں

بیج بویا بندگی کا ہند میں

اُس سے تازہ ہو گیا عہدِ عمرؓ

حرف سے اُس کے ہُوا حق معتبر

پاسبانِ عزّتِ اُمّ الکتاب

خانہء باطِل کیا جس نے خراب

خاکِ پنجاب اُس کے دم سے جی اُٹھی

صبح اُس کے مہر سے روشن ہوئی

تھا وہ عاشق قاصِدِ طیّارِ عشق

جس کے ماتھے سے عیاں اسرارِ عشق

اُس کی عظمت کی ہے یہ اِک داستاں

باغ کو غنچے میں کرتا ہوں نہاں

اِک جواں جس کی تھی قامت مثلِ سرو

وارِدِ لاہور شد از شہرِ مرو

سیّدِ والا کی خدمت میں گیا

تاکہ تاریکی ہو سورج سے فنا

اور ہُوا گویا کہ ہوں در دشمناں

جیسے مِینا پتھروں کے درمیاں

تُو سِکھا مجھ کو شہِ گردوں مکاں

زندہ رہنا دشمنوں کے درمیاں

پِیرِدانا ذات میں جس کی جمال

کر گیا عہدِ محبت با جلال

بولے اے ناواقفِ رازِ حیات

غافِل از انجام و آغازِ حیات

اور مت اندیشہء اٖغیار کر

قوّتِ خوابیدہ کو بیدار کر

سنگ نے خود کو جونہی شیشہ کہا

بن گیا شیشہ ہی اور ٹکڑے ہُوا

راہرو گر خود کو سمجھا ناتواں

راہزن کو اُس نے دے دی اپنی جاں

آب و گِل سمجھے گا خود کو تا کُجا

شعلۂ طُور اپنی مٹی سے اُٹھا

تُو عزیزوں سے خفا رہتا ہے کیوں

دشمنوں کا تُو گِلہ کرتا ہے کیوں

سچ کہوں دشمن بھی تیرا دوست ہے

ہے تِرے بازار کی رونق یہ شے

جانتا ہو جو مقاماتِ خودی

فضلِ حق جانے جو ہو دشمن قوی

کِشتِ انساں کے لیے بادل عدو

اُس کے اِمکانات کو بخشے نمو

سنگِ رَہ پانی ہے گر ہے حوصلہ

سیل کو پست و بلندِ جادہ کیا

مِثلِ حیواں کھانا پینا کس لیے

گر نہ ہو محکم تو جینا کس لیے

گر خودی سے خود کو تُو محکم کرے

چاہے تو دنیا کو پھر برہم کرے

خود سے ہو آزاد گر چاہے فنا

خود میں ہو آباد گر چاہے بقا

موت غفلت ہے خودی سے مہرباں

تُو سمجھتا ہے فراقِ جسم و جاں

صورتِ یوسف خودی میں کر قیام

قید سے تختِ شہی تک کر خرام

گُم خودی میں ہو کے مردِ کار بن

مردِ حق بن حامِلِ اسرار بن

داستانیں کہہ کے راز افشا کروں

غنچے کو زورِ نفس سے وا کروں

’’ہے یہی بہتر کہ رازِ دِلبراں

دوسروں کے قصّے میں کیجیے بیاں ‘‘

پِیرِسنجر: خواجہ معین الدّین چشتیؒ جو حضرت ہجویریؒ کے مزار پر تشریف لائے تھے۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s