لوگ مٹی میں رُلے جاتے ہیں کیا ہیرا سے

خوف آنے لگا یارب ہمیں اِس دنیا سے
لوگ مٹی میں رُلے جاتے ہیں کیا ہیرا سے
یا تو اک لمحے میں ہو جائے طبیعت بیزار
اور لگ جائے تو بھرتا نہیں جی دنیا سے
اُس کو ماضی میں بھی آرام کی صُورت نہ ملی
جس نے منہ پھیر لیا آئینہء فردا سے
تم بہت دیر سے بیکار ہو اے قلب و جگر
آؤ ملواؤں تمہیں ایک غمِ تازہ سے
اب جو چھایا ہے تو پھر کھُل کے برس ابرِ خیال
کھیت اشعار کے مدت سے پڑے ہیں پیاسے
چین سے بیٹھے ہو اک گوشہء تنہائی میں
اور کیا چاہیے باصرِؔ تمہیں اس دنیا سے
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s