لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر

ہم آبیاری خونِ جگر سے کریں اگر
لائے گی شاخِ بید بھی اِس باغ کی ثمر
بولیں گے جب ملے گا کوئی ہم نوا اِنہیں
بیٹھے ہوئے ہیں مُرغ جو منقار زیرِ پر
دل چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جلتا ہے اس لیے
ہوتے ہیں اصل بات سے ہم لوگ بے خبر
وہ لوگ مدرسوں میں سِکھانے لگے زباں
جو عِلم کو عِلَم کہیں اور صبر کو صَبَر
باصِر نے تجربوں سے نہ سیکھا کوئی سبق
ہوتا نصیحتوں کا بھلا اس پہ کیا اثر
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s