فرصت ۔ ڈبلیو ایچ ڈیوس

یہ کیا زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے،

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ؟

وقت نہ ہو کہ درختوں کے نیچے کھڑے ہوں

اور دیکھیں دیر تک بھیڑوں اور گایوں کی طرح۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، جب ہم جنگل سے گزریں ،

جہاں گلہریاں گھاس میں اخروٹ چھپاتی ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ دیکھیں ، دن کی کھلی روشنی میں ،

ستاروں سے بھری ندیاں ، جیسے رات کو آسمان۔

وقت نہ ہو کہ پلٹیں حُسن کی نگاہ کی طرف،

اور اُس کے پاوئں دیکھیں ، وہ کیسے ناچ سکتے ہیں ۔

وقت نہ ہو کہ انتظار کریں جب تک اُس کے ہونٹ

اُس مسکراہٹ کو نہال کرسکیں جو اُس کی آنکھوں نے شروع کی تھی۔

یہ ایک کنگال زندگی ہے اگر، فکر میں گھرے

ہمارے پاس وقت نہ ہو کہ رکیں اور دیکھیں ۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s