ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا

موسمِ ابر کا مزا بھی تھا
ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا
ایک تو چارہ گَر مِلے ناقِص
کچھ مرا درد لادوا بھی تھا
اک تو ویسے ہی بدمزاج ہے وہ
اور اُس روز کچھ خفا بھی تھا
اب تو جینے کی بھی نہیں ہمت
کبھی مرنے کا حوصلہ بھی تھا
تو کچھ اپنا خیال کر باصرؔ
اُس نے جاتے ہوئے کہا بھی تھا
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s