رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں

مِلتا ہے عجب لطف مجھے ضبطِ سخن میں
رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں
اُبھرے وہ کہاں جھیل سی آنکھوں میں جو ڈوبے
نکلے نہ کبھی گِر گئے جو چاہِ ذقن میں
لے جانے لگی پستی کی جانب ہمیں اب زیست
ہونے لگی محسوس کشش دار و رسن میں
کیا جانیے کس لمحے چلا جائے تہِ خاک
انسان تو جیتا بھی ہے گویا کہ کفن میں
نامے کی ضرورت ہے نہ محتاجیِ قاصد
تُو یاد تو کر آؤں گا میں چشم زدن میں
اب موسمِ گُل آپ نمٹ لے گا خزاں سے
ہم چین سے بیٹھیں گے کسی کُنجِ چمن میں
تم قدر تو کرتے نہیں اربابِ ہُنر کی
کیوں جان کھپائے بھلا کوئی کسی فن میں
اورں کی زمیں راس نہیں آئے گی باصرؔ
آرام ملے گا تمہیں اپنے ہی وطن میں
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s