دیباچہ

۔ ۱ ۔

یاں فقط ریختہ کہنے ہی نہ آئے تھے ہم

چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے

میرا خیال تھا کہ شعر نہ کہنے پر تو میرا اختیار نہیں لیکن اپنا شعری مجموعہ شائع نہ کرانا شاید میرے بس میں ہے۔ لیکن جس طرح پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے اور اختیار سے مزید اختیار حاصل ہوتا ہے اسی طرح بے بسی بے بسی کو جنم دیتی ہے۔ کچھ دوستوں کی شہ، بزرگوں کی ناحوصلہ شکنی اور شاعری اور شاعری سے ملتی جلتی چیزوں سے محبت کرنے والوں کی توقعات اِن اشعار کو کتابی شکل میں لانے کے محرکات ہیں۔ جہاں تک اِس مجموعے میں ’اصلیت‘ یا ’جان‘ کا تعلق ہے تو اِس کا فیصلہ ظاہر ہے کہ وقت ہی کرے گا اور میں چاہتا ہوں کہ یہ وقت کم از کم اگلے پچاس برس تک تو نہ آئے کیونکہ ابھی مجھے دنیا میں کچھ اور کام بھی کرنے ہیں۔ سو اگر مستقبل (مستقبل قریب ہرگز نہیں) کے قارئین اِس کلام کو جان دار پائیں گے تو یہ اُن کی خوش قسمتی ہو گی اور اگر معاملہ اِس کے برعکس رہا تویہ اُن کی اور بھی زیادہ خوش قسمتی ہو گی کہ اُن کی ایک ایسے شاعر سے جان چھوٹ چکی ہو گی جو کچھ غیر شعری عوامل کی بدولت اپنے بے جان کلام کی داد پاتا رہا۔

بعض لوگوں کے خیال میں یہ میری بد قسمتی ہے کہ میرا موازنہ ناصِر کاظمی سے کیا جائے گا، اپنے ہم عصروں سے نہیں،میں سمجھتا ہوں یہ میری خوش بختی ہے کہ میں مار کھاؤں گا تو ناصِر کاظمی سے۔ لیکن یہ میں نے کیا کہہ دیا۔ ٹی ایس ایلیٹ تو کہتا ہے کہ ہومر سے لے کر آج تک کے تمام شعراء ہم عصر ہیں۔ پاپا بھی میِراور لورکا کو اپنا ہم عصر کہتے تھے اور مجھے بھی نصیحت کرتے تھے کہ اگر میِر اور غالب کے سامنے بیٹھ کراپنی غزل سنانے کی ہمت کر سکو تو شعر کہنا ورنہ کوئی اور کام کرنا۔

فنِ تقریر سیکھنے لگا تو پہلا سبق یہ ملا کہ سامعین کو بے جان مجسمے جانو۔ مشاعرے میں شعر سنانے کا معاملہ بالکل اُلٹ رہا۔ سیدھے سادے، معتقد حاضرین میِرو غالب لگنے لگے۔ لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے۔ پہلے پہل تو یہ ہوتا کہ ذرا ہوا چلی اور بادبانِ طبعِ رسا کھُلے۔ پھر جو دل میں آتا کاغذ پہ اُتر آتا اور کاغذ پاپا کی میز پر پہنچ جاتا۔ وہ مسکراتے اور رسماَ حوصلہ افزائی کے کچھ کلمات کہہ دیتے جنہیں میں شاباش سمجھتا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ برخوادار سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے تو وہ بھی سنجیدہ ہو گئے۔

پاپا داد دینے کے معاملے میں بہت فیاض تھے۔ کالجوں کے مشاعروں میں صدارت/منصفی کرتے ہوئے جب اُنہیں کسی طالب علم کا کوئی شعر پسند آجاتا تو اپنی تقریر میں اُس کا نام لے کر تعریف کرتے اور بعض اوقات کچھ نقد انعام بھی دیتے۔ بعد میں وہ شعر اپنے دوستوں کو بھی سناتے۔ لیکن اُن کی داد وتحسین کا دوسرا رُخ شیخ صلاح الدین نے اپنی کتاب ناصِر کاظمی: ایک دھیان میں بیان کیا ہے:

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصِر کی محفل میں ایک نوجوان بیٹھا کرتا تھاجو ناصِر کی شاعری کا بہت بڑا مداح تھا اور اُس کا بہت احترام کرتا تھا۔ وہ بہت ہی شریف انسان تھا۔ اُن کو شعر کہنے کا لپکا تھا۔ اِدھر اُنہوں نے کسی کی غزل سنی اور اُن کو بھلی لگی تو اُسی زمین میں اگلے دن غزل کہہ لیتے اور سنانے کے لیے چلے آتے اور اِس طرح سناتے جیسے بہت بڑا تیر مارا ہو۔۔۔۔۔۔ میری رائے یہ تھی کہ شاعری اُن کے بس کا روگ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ تھی کہ اُن کا تخیلی ہاضمہ بہت ہی کمزور تھا اور اُن پر کوئی ننھا منا سا شاعرچھا سکتا تھااور وہ بھرپور ہو جاتے تھے اور بہہ نکلتے تھے۔ وہ کسی تاثر، خیال، جذبے، آہنگ کی پرورش کرنا نہ جانتے تھے اور اُس میں روح پڑنے سے پہلے ہی بطن سے اُگل دیتے تھے۔ لہذا اُن کے یہاں ہر خیال، جذبہ اور آہنگ مردہ ہی پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے اشخاص سے ناصِر بہت ہی خوبصورت جھوٹ بولنے کا قائل تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے اشخاص اپنی خود فریبی سے سیر ہو جاتے اور فن اور شاعری سے کنارہ کش ہو جاتے اور کسی دوسری قسم کی زندگی جس کے لیے وہ اہل ہوتے، اُس زندگی میں مصروف ہو جاتے۔‘‘

مجھے بچپن میں مصوری کا بھی بہت شوق تھا۔ سکول میں آٹھویں جماعت تک ڈرائینگ باقاعدہ مضمون کے طور پر سیکھی۔ بیسیوں تصویریں بنائیں۔ اگرچہ ان پر بہت شاباش بھی ملی، خاص طور سے ٹیپو سلطان کی رنگین پورٹریٹ اور قائدِ اعظم اور چرچل کے پنسل سکیچوں پر، لیکن ان میں جو کمی تھی وہ بھی صاف نظر آتی تھی۔

میرے ننھیال منٹگمری (ساہیوال) میں تھے۔ ایک بار جب حسبِ معمول چھٹیوں میں منٹگمری گئے تو میں اپنے ماموں نجم الحسن کی ڈرائنگ کے کچھ نمونے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک پنسل سکیچ تو قابلِ دید ہی نہیں، ناقابلِ فراموش بھی تھا۔ ایک لڑکی کی تصویر تھی جس کی نگاہیں کسی کی کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں تھیں اور جس کی زلفِ گرہ گیر پہ ایک تتلی بھنورے کی طرح بیٹھی تھی:

صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس

کیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے

ہزار کوشش کی کہ اس طرح کی کوئی تصویر بنا سکوں لیکن ؎ ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔ شکلِ خیالی کی کوئی نقل ایسی نہ بن سکی جو میرِ مصوری کو دکھا سکتا۔ عقل نے کہا، ’یہ تیرا میدان نہیں، دخل در معقولات مت کر۔‘ سو کاغذ لپیٹا سامان سمیٹا اور مصوری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا۔ اگرچہ شعر کہنا شروع کر چکا تھا لیکن اُس وقت مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ باقی عمر لفظوں سے تصویریں بناتے گذرے گی۔

شاعری کا آغاز یوں ہواتھا کہ ایک اتوار کو ریڈیو پر بچوں کے پروگرام میں ایک نظم سنی۔ اُسی زمین میں کچھ شعر لکھے گئے۔ پاپا نے دیکھے تو خوش ہوئے اور اگلی اتوار کو میں اُسی ریڈیو پروگرام میں اپنے اشعار سنا رہا تھا۔ میں اُس وقت چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔

سجاد باقر رضوی صاحب کو میرے شعر کہنے کا علم ہوا تو کھِل اٹھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کسی مصلحت یا اندیشے کے بغیر اِس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ مذکورہ نظم /غزل پر مجھے باقاعدہ انعام دیا۔ ایک شعر پر تو بہت ہی محظوظ ہوئے:

آپ سا بے وفا نہیں دیکھا

ہم نے طوطا اُڑا کے دیکھ لیا

باقر صاحب اورینٹل کالج میں استاد تھے۔ ساتھ لاء کالج اور اس کی دیوار کے دوسری طرف ہمارا سکول، سینٹ فرانسس ہائی سکول تھا۔ گرمیوں کی ایک دوپہر چھُٹی کے بعد میں اور میرا چھوٹا بھائی حسن بس سٹاپ کی طرف جا رہے تھے کہ باقر صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ وہ اصرار کر کے ہمیں اپنے کالج لے گئے۔ پہلے سیون اپ سے ہماری تواضع کی پھر ہمیں پروفیسر وقار عظیم کے کمرے میں لے گئے۔ہمارا تعارف کرایا اور ساتھ ہی مجھ سے اپنے شعر سنانے کو کہا۔ میں اس بات کے لیے قطعاَ تیار نہیں تھا۔ بہت کہا کہ وہ تو بچوں کے پروگرام کے لیے تھے، اور وہ تو کچھ بھی نہیں تھے، لیکن باقر صاحب کی فرمائش حکم میں تبدیل ہو گئی۔ میں نے کپکپاتی آواز میں جو چار پانچ اشعار تھے سنا دئیے۔ وقار صاحب شفقت سے مسکراتے رہے اور میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

نویں جماعت میں پہنچ کر مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ سائنس پڑھوں یا آرٹس۔ پاپا بہ تکرار کہتے کہ زمانہ سائنس کا ہے۔ چچا عنصر کی خواہش تھی کہ میں بی ایس ای انجینئرنگ کرتا، جبکہ باجی (ہم اپنی امی کو باجی کہتے ہیں) کا مدعا بس اتنا تھا کہ میں ’سیدھا سیدھا‘ ایم اے کروں ، پھر جو مرضی کروں۔ میرے نزدیک سائنس پڑھنے کا مطلب صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا تھا۔ اگرچہ فزیالوجی میرا پسندیدہ مضمون تھا لیکن ڈاکٹری میں جو ’خون خرابہ‘ اور’ چیر پھاڑ‘ ہوتی ہے، اس سے میری جان جاتی۔ انجینئرنگ میں کوئی ایسی بات تو نہ تھی جس سے میں بھاگتا لیکن کوئی ایسی بات بھی نظر نہ آتی جو اپنی طرف کھینچتی۔ سائنس دان بننے کا اگر ہمارے وطن میں کوئی تصور ہوتا تو میں ضرور یہ کوشش کرتا۔ سائنس سے میرے عشق کا یہ عالم تھا کہ آرٹس کے مضامین چُننے کے باوجود فزیالوجی کا بھی انتخاب کیا اور میرے جو دوست فزکس، کیمسٹری پڑھتے تھے ان کی کتابیں مستعار لے کر پڑھتا۔ میں نے اور حسن نے اپنے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا لی۔ موجدوں کی زندگیوں اور ان کی ایجادات کے بارے میں کتابیں اکٹھی کیں۔ ’ Seven Inventors‘ جانے کتنی بار پڑھی۔ ذہن پر یہ بھوت سوار تھا کہ کچھ ایجاد کیا جائے، لیکن کیا؟ سب کچھ تو ایجاد ہو چکا تھا۔

آرٹس کا انتخاب یوں بھی آسان ہو گیا کہ اُ ن دنوں سی ایس پی افسروں کی بڑی دھاک تھی۔ پھر پاپا کے کچھ افسر دوستوں کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا۔ مجھے اُن کی زندگی بہت اچھی لگتی۔ جینے کے لیے درکار سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں شعروادب کے لیے بھی وقت میسر تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سی ایس پی بننا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت مقابلہ ہوتا ہے، لیکن کچھ یہ بھی کہتے کہ یہ کوئی اتنا مشکل بھی نہیں کیونکہ اس کے لیے کسی خاص علم، کسی شعبے میں مہارت درکار نہیں ہوتی۔ بس ہر چیز کے بارے میں تھوڑا تھوڑا ، اوپرا سا علم کافی ہے، وہ بھی امتحان کے دن تک۔ بعد میں چاہے وہ بھی پاس نہ رہے۔ اصل کام تو ماتحتوں نے کرنا ہوتا ہے۔ آپ کوصرف کام کرنے یا نہ کرنے کا حکم دینا ہوتا ہے۔ ’’کیا بات ہے!‘‘ میں سوچتا۔

سکول میں یہ میرا آخری سال تھا جب ٹیلیویژن پر نوجوانوں کے لیے شعروادب کا ایک پروگرام شروع ہوا۔ میں نے بیت بازی کے دو تین پروگراموں میں حصہ لیا اور ایک پروگرام میں اپنی نظم نما غزل سنائی۔ ع دُور سایا سا سا ہے کیا پھولوں میں۔ اس کے بیشتر اشعار پاپا کی اصلاح سے کسی قابل ہوئے۔ اس سے اگلے برس جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو یہ غزل ’راوی‘ میں چھپی جو ایک اعزاز تھا۔ کالج میں شعرکہنے کے شوق کو گویا پر لگ گئے۔ ’مجلسِ اقبال‘ کے اجلاس بہت بھرپور ہوتے تھے اور ان میں اپنی تخلیقات پیش کرنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ بین الکلیاتی مشاعروں میں شرکت کے لیے کالج کی ٹیمیں ملک بھر کے کالجوں میں بھیجی جاتی تھیں۔ ٹرافیاں، تمغے ایک طرف، مفت کی سیر الگ۔ سو میرا شعر کہنا جاری رہا اور پاپا اس لیے اصلاح اور حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ یہ تخلیقی عمل میری نشوو نما میں ممد ثابت ہو گا۔ لیکن وہ میری اصل ترقی تعلیمی میدان میں دیکھنا چاہتے تھے۔

پاپا کو شاذ ہی کوئی شعر پسند آتا۔ جو غزل میں انہیں دکھاتا، اصلاح کے بعد اس میں باقی کچھ نہ بچتا۔ بے وزن اشعار اور خاص طور سے تلفظ کی غلطیوں پر بہت ڈانٹ پڑتی۔ ’’یہ لفظ ایسے نہیں باندھا جا سکتا،‘‘ وہ کہتے اور پھر اساتذہ کے کلام سے مثالیں دیتے جو میں اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا۔ اشعار کی باریکیوں پر اتنی تفصیلی گفتگو کرتے کہ ہیرا تراشنے کا عمل بہت آسان دکھائی دیتا۔ مختلف شعراء کی کتابیں کھُلتیں اور کئی بار آدھی رات ہو جاتی۔ باجی آ کے یاد دلاتیں کہ اِسے صبح کالج بھی جانا ہے۔ پاپا مزید برہم ہو جاتے کہ اپنا وقت بھی برباد کرتا ہے اور میرا بھی۔ کبھی کبھار میرے کسی مصرع کو پسندیدگی کا نشان نصیب ہوتا اور اگر کوئی پورے کا پورا شعر اس کا مستحق قرار پاتا تو یہ ایک واقعہ ہوتا۔ پھر پاپاسب کچھ بھول جاتے اور باجی کو بھی بلا لیتے اور کہتے، ’’آخر میرا بیٹا ہے نا!‘‘ باجی خوش تو ہوتیں لیکن بھرپور کوشش کرتیں کہ اُن کی خوشی ظاہر نہ ہونے پائے۔ کہا کرتیں کہ گھر میں ایک شاعر بہت ہے۔ اگلے ہی لمحے پاپا حقیقت کی دنیا میں واپس آجاتے اور لاڈ سے کہتے، ’’بھاگ جا، اپنی پڑھائی پر توجہ دے۔ یہ راستہ خوشی تو دیتا ہے لیکن بے شمار دُکھ دینے کے بعد۔‘‘ اُس دور کی چند ڈائریاں میرے پاس اب بھی محفوظ ہیں اور میری زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ وہ اشعار /مصرعے ہیں جن پر پاپا نے پسندیدگی کے نشان لگائے تھے۔ میں انہیں یہاں نقل کرنا چاہوں گا کہ انہیں کے سہارے میری یہ کتاب آپ تک پہنچ رہی ہے۔

ع ہوا چلی اور خوب چلی پھر

ع میں تری رات کا دیا ہوتا

ع وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

………

میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اتنا

سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں

………

جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے

یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آگئی

………

تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی

اب لاعلاج ہے تو دوا یاد آگئی

………

آوازِ رفتگاں مجھے لاتی ہے اِس طرف

یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں

………

اِس چمن کو بنانے والے نے

کیا بنایا تھا بن گیا کیا ہے

………

بعد موت کے روح ہماری

دنیا کو کیا پاتی ہو گی

………

سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے

صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے

………

آؤ کہ گِن سکوں گا نہ شامیں فراق کی

یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں

(یہ غزل پاپا کی وفات کے بعد مکمل ہوئی)

اِن کے علاوہ جو اشعار ’ابتدائی کلام‘ کے زیرِ عنوان شائع کیے جا رہے ہیں، پاپا کو جزوی طور پر ٹھیک لگے اور ان کی اصلاح سے بہتر ہو گئے۔

۔۲ ۔

پاپا کی وفات کے بعد میری ترجیحات یکسر بدل گئیں۔ اُن کی زندگی میں صرف برگِ نے شائع ہوئی تھی۔ دیوان، پہلی بارش، نشاطِ خواب، سُر کی چھایا، خشک چشمے کے کنارے، اُن کی ڈائریاں اور کلاسیکی شعراء کے انتخاب، سب شائع ہونا باقی تھے۔ دیوان، اورپہلی بارشکے سوا ساری کتابوں کے مسودے تیار ہونا تھے۔ ریڈیو فیچر، رسالوں کے ادارئیے، مضامین وغیرہ کا حصول اور ترتیب کافی وقت طلب کام تھا۔ ہر اتوار (ہفتہ وار تعطیل) کو ہمارے ہاں پاپا کے دوست آتے، خاص طور سے شیخ صلاح الدین، انتظار حسین، احمد مشتاق، سجاد باقر رضوی، افتخار شبیر، صلاح الدین محمود، ریاض انور اور محبوب خزاں۔ اِس طرح جو ماحول بنتا اور جو باتیں ہوتیں ان کے نتیجے میں ہمارا وقت گویا پاپا کی قربت میں گذرتا۔ اُن کی جدائی تخلیقی قوت میں تبدیل ہوتی گئی۔ شعر کہنے پر بھی طبیعت مائل ہوتی اور کچھ مختلف راہوں کی جستجو بھی رہتی۔ کتابیں پڑھنے کو تو بہت جی چاہتا لیکن غیر نصابی کتابیں۔ ذریعہء معاش کے بارے میں سوچتا تو ہر پیشہ کُل وقتی یکسوئی مانگتا نظر آتا۔ صرف کالج میں پڑھانا ہی ایسا کام لگتا جس میں کچھ فرصت میسر آسکتی تھی۔ افسری کا خیال تو دل سے کچھ یوں بھی نکل گیا کہ جن افسروں پر کبھی رشک آتا تھا اب اُن کی مجبوریاں دیکھ کے اُن پہ ترس آتا۔ گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری منتخب ہو جانے کے باعث اِن افسروں کے افسروں سے بھی ملاقاتیں رہنے لگیں۔ ان میں گو رنر اور وزراء سے لے کر صدرِ مملکت تک شامل تھے۔ رفتہ رفتہ اِن ’اعلی حکام‘ کی چکا چوند بھی ماند پڑتی گئی۔ پتہ چلا کہ آپ اپنے ارد گرد تبدیلی لانے کے لیے عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب عہدہ مل جاتا ہے تو وہ اُلٹا آپ کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اب تبدیلی کی خواہش دوسروں کا دردِ سر ہوتی ہے۔ آپ تو ہر چیز کو اُسی طرح قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں جیسی وہ ہے کیونکہ عہدہ آپ کو اسی لیے ملا ہوتا ہے۔

میرا سیکرٹری کا انتخاب پاپا کے انتقال سے ڈھائی ہفتے قبل ہوا۔ مجھے انتخابی مہم میں مصروف دیکھ کے وہ بہت سیخ پا ہوتے۔ ایک بار تو باقاعدہ میری پٹائی کر دی اور حسن سے کہا کہ کل سے اس کے خلاف مہم چلاؤ۔ اُن کی دوسری تشویش یہ تھی میں وقت تو ضائع کر ہی رہا تھا، ’بے عزتی‘ بھی کرواؤں گا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اپنی ’ہٹ دھرمی‘ سے باز آنے والا نہیں تو اُن کی خواہش یہ ہوتی کہ میں باعزت طریقے سے ہار جاؤں اور اِس طرح اپنی ’بھڑاس‘ نکال لینے کے بعد پڑھائی کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔

۔ ۳ ۔

کالج میں پڑھانا اچھا تو بہت لگا لیکن کچھ خوش فہمیاں شروع ہی میں دُور ہو گئیں۔ فرصت واقعی ملتی لیکن اس کا کچھ حصہ تو ویسے ہی اِدھر اُدھر ضائع ہو جاتا اور کچھ اُن دفتروں کے چکروں میں صرف ہو جاتا جن سے بچنا چاہا تھا۔ اِن دفتروں میں حاضری سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں جو یہاں کام کرتے ہیں۔ میرے خیر خواہ مقابلے کا امتحان دینے لیے مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اگر اِس بُت پرست معاشرے میں عزت کی زندگی گذارنی ہے تو امتحان پاس کر لے:

وہ ایک سجدہ جسے توُ گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات‘‘

دوسرا انکشاف یہ ہوا کہ اگر آپ کو وقتِ مقررہ پر کسی خاص جگہ پہنچنا ہو، تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، تو سمجھیں کہ وہ سارا دن ہی گیا۔ انسان مخلوق بھی ہے اور خالق بھی۔ بحیثیت مخلوق اِس کے لیے حدیں ضروری ہیں لیکن تخلیق کے لیے اِسے بھی ایک لامکاں چاہیے۔ شاہینِ تخیل کے شہپر کھُلتے ہی تب ہیں جب وہ چار سُو سے بے نیاز ہواور اس کی پرواز شام و سحر کی بھی پابند نہیں ہوتی۔

جبر و اختیار کی کشمکش ازل سے جاری ہے۔ کچھ کرنے کے لیے کچھ اور کرنا پڑتا ہے اور کچھ اور کرنے کے لیے کچھ اور۔ زندگی عموماَ کچھ اور کرنے میں گذر جاتی ہے، کچھ کرنے کی توفیق کم کم ہی ملتی ہے اور وہ بھی کسی کسی کو۔

۔۴۔

ستمبرئ1990 مجھے برطانیہ لے آیا۔ یہاں ’عالمی‘ مشاعروں میں شرکت کی۔ پاپا کی وجہ سے اور کچھ دوستوں کی بدولت بہت عزت ملی۔ معروف تھیٹروں میں ڈرامے دیکھے۔ پھر اللہ نے یہ سبب بھی بنایا کہ انہی تھیٹروں میں میرے ڈرامے سٹیج ہوئے۔ اور جب مجھے خیال آنے لگا کہ اب میں صرف ڈرامے لکھا کروں گا، شعر کبھی کبھار ہوا کریں گے، میری شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا جو اب شاید غزل تک محدود نہ رہے، اگرچہ غزل اپنی جگہ ایک لامحدود صنفِ سخن ہے۔

۔ ۵ ۔

دیباچے اِس لیے لکھے جاتے ہیں کہ وہ کتابیں شائع ہو رہی ہوتی ہیں جن کے وہ دیباچے ہونا ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اِس لیے شائع کی جارہی ہے کہ اِس کے بغیر یہ دیباچہ شائع نہیں ہو سکتا تھا جو لکھا جا رہا ہے۔

عزیز قارئین! آپ سے جو باتیں کرنا تھیں وہ سب ہو گئیں۔ سنانے والے اشعار بھی میں سنا چکا۔ اب آ پ بے شک اِس کتاب کو یہیں بند کر دیں۔ کم از کم اتنا ضرور کریں کہ یہ جو غزلیں اگلے صفحے سے شروع ہو رہی ہیں اِن کا مطالعہ کسی اگلی نشست تک ملتوی کر دیں۔ پھر شاید آپ انہیں بھول ہی جائیں یا کوئی آپ سے یہ کتاب عاریتاَ لے جائے، یا اگر آپ خود یہ کسی سے مانگ کر لائے ہیں تو وہ اِسے واپس لینے آجائے (یعنی ممکن ہے وہ کوئی نومشق شاعر ہو کیونکہ عام طور سے کہنہ مشق شاعر دوسروں کی تو کیا اپنی شاعری بھی نہیں پڑھتے)۔ ایسی صورت میں آپ اُسے یہ نہ کہیں کہ آپ نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی اور اِسے مزید کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اُس کی امانت اُسے فوراَ لوٹا دیں ۔۔۔ اور میری طرف سے یہ شعر سنا دیں:

اے میرؔ شعر کہنا کیا ہے کمالِ انساں

یہ بھی خیال سا کچھ خاطر میں آ گیا ہے

باصِر سلطان کاظمی

10مارچ 1997

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s