دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو

کچھ دکھائی نہیں دیتا ترے سودائی کو
دل کے بجھتے ہی یہ کیا ہو گیا بینائی کو
ہاں مری پرسشِ احوال کو آئیں کیونکر
جانتے ہیں وہ مرے زخم کی گہرائی کو
اب نہ وہ سایہ نہ وہ دھوپ نہ پہلی سی چمک
کھا گئی کس کی نظر باغ کی رعنائی کو
کیا کریں ذکر مریضوں کی شفایابی کا
خود مسیحا بھی ترستے ہیں مسیحائی کو
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s