جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے

یہ جو شیریں دہن و نرم نگہ شہری ہے
جانتے بھی ہو مزاج اِس کا بہت قہری ہے
دل میں خوں جب سے ہوا کم نہیں رو سکتے ہم
یہ زمیں آنکھوں کی بارانی نہیں نہری ہے
اِن دنوں ہے مرا صیاد عجب مشکل میں
باغ کی تازہ ہوا میری دوا ٹھہری ہے
موج میں آئے تو میٹھا بھی بہت ہے لیکن
طیش میں ہو تو مِرا یار بہت زہری ہے
کیا خبر ٹھیک نہ ہو زندگی بھر یہ باصرِؔ
تم کو اندازہ نہیں چوٹ بہت گہری ہے
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s