بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی
بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی
یوں بے حال نہ ہو اے دل بس آتے ہی ہوں گے وہ
کل بھی دیر لگی تھی اُن کو آج بھی دیر لگے گی
سیکھ لیا ہے میں نے اپنے آپ سے باتیں کرنا
فکر نہیں اُن کو آنے میں کتنی دیر لگے گی
صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم
ساری شرطیں پوری ہیں پھر کیسی دیر لگے گی
کون رکے اب اُس کے در پر شام ہوئی گھر جائیں
اتنا ضروری کام نہیں ہے جتنی دیر لگے گی
اِتنی دیر میں کچھ کے کچھ ہو جائیں گے حالات
خط لکھنے سے خط ملنے تک جتنی دیر لگے گی
مارگزیدہ کون بچا ہے باصرِؔ شکر کرو تم
ٹھیک بھی ہو جاؤ گے لیکن خاصی دیر لگے گی
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s