’باغبان‘ سے چار نظمیں ۔ رابندر ناتھ ٹیگور

— 1 —

قاری، تم کون ہوجو اب سے سو سال بعد میری نظمیں پڑھ رہے ہو؟

میں تمہیں بہار کی اِس دولت سے ایک بھی پھول، اُس بادل سے ایک بھی سنہری کرن نہیں بھیج سکتا۔

اپنے دروازے کھولو اور باہر دیکھو۔

اپنے پروان چڑھتے ہوئے باغ سے سو سال قبل مٹ گئے پھولوں کی معطر یادیں جمع کرو۔

اپنے دل کی خوشی میں شاید تم اُس زندہ خوشی کو محسوس کر سکوجو ایک بہار کی صبح نغمہ سرا ہوئی، اپنی پُر مسرت آواز کو سو برس دور بھیجتے ہوئے۔

— 2 —

میرے دل کو، جو طائر بیابان ہے، تمہاری آنکھوں میں اپنا آسمان مل گیا ہے۔

یہ صبح کا پنگوڑا ہیں ، ستاروں کی سلطنت ہیں ۔

میرے گیت ان کی گہرائیوں میں کھو گئے ہیں ۔

مجھے اِس آسمان میں تیرنے دو، اِ س کی غیر آباد وسعت میں ۔

مجھے اِس کے بادلوں میں راستہ بنانے دو، اور اِس کی دھوپ میں پر پھیلانے دو۔

— 3 —

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں ایک بھکاری بن کے نہیں آیا۔

میں تمہارے صحن کی بیرونی حد پر، باغ کی باڑھ سے باہر، کچھ دیر کے لیے ٹھہرا تھا۔

اِیسی نگاہ سے تم کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہو؟

میں نے تمہارے باغ سے ایک بھی گلاب نہیں لیا، ایک پھل نہیں توڑا۔

میں نے راستے میں سائبان تلے عاجزی سے پناہ لی، جہاں ہراجنبی مسافر ٹھہر سکتا ہے۔

میں نے ایک بھی گلاب نہیں توڑا۔

ہاں ، میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے، اور بارش کی بوچھاڑ گر رہی تھی۔

ہوائیں بانس کی جھونکے کھاتی شاخوں میں چیخ اٹھیں ۔

بادل آسمان پہ دوڑ رہے تھے جیسے ہار کے بھاگ رہے ہوں ۔

میرے پاؤں تھکے ہوئے تھے۔

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا یا تمہیں دروازے پر کس کا انتطار تھا۔

بجلی کے کوندے تمہاری آنکھوں کو چوندھیا رہے تھے۔

مجھے کیسے پتہ چلتا کہ میں جہاں اندھیرے میں کھڑا تھا تمہیں نظر آسکتا تھا؟

مجھے معلوم نہیں تم نے میرے بارے میں کیا خیال کیا تھا۔

دن ختم ہو گیا ہے اور بارش ایک لمحے کے لئے رک چکی ہے۔

میں تمہارے باغکی بیرونی حد پر، درخت کا سایا چھوڑ رہا ہوں اور گھاس کی یہ نشست ۔

اندھیرا ہو چکا ہے؛ اپنا دروازہ بند کر لو؛ میں اپنی راہ لیتا ہوں ۔

دن ختم ہو چکاہے۔

— 4 —

چراغ کیوں بجھ گیا؟

میں نے اسے ہوا سے بچانے کے لیے اپنی چادر سے ڈھک دیا تھا، اِس لیے چراغ بجھ گیا۔

پھول کیوں مرجھا گیا؟

میں نے اسے بیقرار محبت سے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا تھا، اِس لیے پھول مرجھا گیا۔

ندی کیوں سوکھ گئی؟

میں نے اپنے استعمال کے لیے اس پر ایک ڈیم بنا دیا تھا، اِس لیے ندی سوکھ گئی۔

بربط کا تار کیوں ٹوٹ گیا؟

میں نے اس سے ایسا سُر نکالنے کی کوشش کی جو اس کے اختیار سے باہر تھا، اِس لیے بربط کا تار ٹوٹ گیا۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s