ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ گبریل اوکارا

ایک دفعہ کا ذکر ہے، اے پسر،

وہ دل سے ہنستے تھے

اور اپنی آنکھوں سے ہنستے تھے:

لیکن اب وہ صرف اپنے دانتوں سے ہنستے ہیں ،

جبکہ ان کی برف سی سرد آنکھیں

میرے سائے کے پیچھے کچھ ڈھونڈتی ہیں ۔

بے شک ایک وقت تھا

جب وہ دل سے ہاتھ ملاتے تھے:

مگر وہ وقت جا چکا، اے پسر،

اب وہ بے دلی سے ہاتھ ملاتے ہیں

جس اثنامیں ان کے بائیں ہاتھ تلاشی لیتے ہیں

میری خالی جیبوں کی ۔

’اپنا گھر سمجھو‘! ’پھر آنا‘:

وہ کہتے ہیں ، اور جب میں آتا ہوں

دوبارہ اور محسوس کرتا ہوں

اپنے گھر جیسا، ایک بار، دوبار،

تیسری بار نہیں آئے گی ۔۔

کیونکہ اس کے بعد میں دروازوں کو خود پر بند پاتا ہوں ۔

چنانچہ میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ، اے پسر،

میں نے بہت سے چہرے پہننا سیکھ لیے ہیں

ملبوسات کی طرح۔۔ گھر کا چہرہ،

دفتر کا چہرہ، گلی کا چہرہ، میزبانی کا چہرہ،

پارٹی کا چہرہ، اپنی تمام مناسبت رکھتی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ

ایک آویزاں تصویر کی مسکراہٹ کی طرح۔

اور میں نے بھی سیکھ لیا ہے

صرف اپنے دانتوں سے ہنسنا

اور بے دلی سے ہاتھ ملانا۔

میں نے ’الوداع‘ کہنا بھی سیکھ لیا ہے،

جب میرا مطلب ہوتا ہے ’جان چھوٹی‘:

یہ کہنا کہ’ آپ سے مل کے خوشی ہوئی‘،

خوش ہوئے بغیر؛ اور کہنا کہ

’آپ سے بات کرنا اچھا لگا‘، بیزار ہونے کے بعد۔

لیکن میرا یقین کر، فرزند۔

میں ہونا چاہتا ہوں جو میں کبھی تھا

جب میں تجھ ایسا تھا۔ میں چاہتا ہوں

ان تمام بے صدا کرنے والی باتوں کو بھلا دینا۔

سب سے بڑھ کے، میں دوبارہ سیکھنا چاہتا ہوں

کیسے ہنستے ہیں ، کیونکہ آئینے میں میرا قہقہہ

صرف میرے دانت دکھاتا ہے جیسے ایک سانپ کے عیاں زہری دانت!

پس مجھے دکھا، اے پسر،

کیسے ہنستے ہیں ؛ مجھے دکھا کیسے

میں ہنسا کرتا تھا اور مسکراتا تھا

کبھی جب میں تیرے جیسا تھا۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s