آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح

سوئے بہت مگر کسی بیمار کی طرح
آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح
کچھ ایسی پُختہ ہو گئی دِل توڑنے کی خو
اِقرار کر رہے ہیں وہ اِنکار کی طرح
بیکار سمجھے جاتے ہیں فن کار اِس لیے
دن رات کام کرتے ہیں بیگار کی طرح
میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں
پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s