اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا

عجب نہیں جو بنا دیں پہاڑ رائی کا
اُنہیں بہانہ کوئی چاہیے لڑائی کا
ہمیں تو آنکھوں کے دیکھے کا اعتبار نہیں
اُدھر بھروسہ ہے کتنا سنی سُنائی کا
ہمیں تو لگتی ہے دشوار بندگی بھی بہت
عجیب تھے جنہیں دعوی رہا خدائی کا
چمک سی ایک فریبِ امید کی جو نہ ہو
جو موت کا ہے وہی رنگ ہے جدائی کا
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s