اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی

پہلے ہی زندگی تھی ہماری پہاڑ سی
اوپر سے ہو گئی ہے یہ تجھ بن اجاڑ سی
دنیا اِسے خلیج بنا دے گی ایک دن
ہم دونوں کے جو بیچ پڑی ہے دراڑ سی
مشکِل ہُوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا
الجھی ہُوئی ہے ڈور سے کوئی دُگاڑ سی
اپنی حدود کا بھی کچھ اِدراک چاہیے
اچھا ہے درمیاں میں رہے ایک باڑ سی
تھی بے اثر غزالِ شکستہ کی آہِ نرم
اب چاہیے ہے شیرِ ببر کی دہاڑ سی
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s