اظہارِ حال کرنے کا دل نے جگر کیا

کیا تیری ایک نیم نگہ نے نڈر کیا
اظہارِ حال کرنے کا دل نے جگر کیا
اب بھی اگرچہ روز نکلتا ہے آفتاب
دن تھا وہی جو ساتھ تمہارے بسر کیا
تُو نے تو خیر ہم کو بلانا تھا کیا مگر
ہم نے بھی دیکھ کر ترے تیور حذر کیا
تھے تیرے پاس قطعِ تعلق کے سو جواز
ہم نے بھی ترکِ عشق کسی بات پر کیا
اب کے چلی ہوائے حقیقت کچھ ایسی تیز
نخلِ گمان آن میں بے برگ و بر کیا
تُو نے بھی جاں کھپائی ہے باصرِؔ ہمارے ساتھ
جا اپنے ساتھ ہم نے تجھے بھی امر کیا
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s