اختیار نہ کیا گیا راستہ ۔ رابرٹ فراسٹ

زرد جنگل میں دو راستے ہو رہے تھے جدا،

اور افسوس دونوں پہ چلنا تو ممکن نہ تھا

مجھ کو ہونا تھا بس ایک ہی کامسافر، میں دیکھا کیا

دیر تک ایک کو حدِ امکان تک

وہاں تک جہاں ہو رہا تھا وہ خم کھا کے جنگل میں گُم؛

میں نے پھر دوسرے کو چُنا،وہ جو اُتنا ہی خوش رنگ تھا،

پُر کشش بھی زیادہ تھا شاید،

کہ تھی اُس پہ گھاس اور وہ قدموں کی طالب تھی؛

گو اُس جگہ آمدورفت سے

دونوں یکساں ہی پامال تھے،

اور اُس صبح دونوں پہ تھے

راہگیروں کے قدموں سے محفوظ پتے ۔

میں نے پہلے کو چھوڑا کسی اور دن کے لیے!

گو کہ معلوم تھاکیسے اک راہ سے دوسری رہ نکلتی ہے،

اور واپسی کتنی دشوار ہوتی ہے۔

میں بیاں کر رہا ہوں گا اک آہ بھر کے

کہیں آج سے سالہا سال بعد:

ایک جنگل میں دو راستے ہو رہے تھے جدا، اور میں ۔۔

میں نے وہ چُن لیا جس پہ کم آمدورفت رہتی رہی،

اور اِسی بات نے فرق ڈالا تمام۔

باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s