اب ہے وہی اپنا معمول

تھا جو کبھی اک شوقِ فضول
اب ہے وہی اپنا معمول
کیسی یاد رہی تجھ کو
میری اک چھوٹی سی بھول
غم برگد کا گھنا درخت
خوشیاں ننھے ننھے پھول
اب دل کو سمجھائے کون
بات اگرچہ ہے معقول
آنسو خشک ہوئے جب سے
آنگن میں اُڑتی ہے دھول
تم ہی بدل جاؤ باصرِؔ
کیوں بدلیں دنیا کے اصول
باصر کاظمی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s