ہوا، آنکھیں دِکھانے آ گئی ہے

ہرے پیڑوں کو ڈھانے آ گئی ہے
ہوا، آنکھیں دِکھانے آ گئی ہے
یہ کیسی عارفانہ موت آئی
زمیں چادر چڑھانے آ گئی ہے
پرندے، بن سنور کر جا رہے ہیں
یہ دنیا کس دہانے آ گئی ہے
نمازِ حق ادا کرتے ہیں ، آؤ!
اذاں ہم کو بُلانے آ گئی ہے
محبت اِستخارہ کر چُکی جب
ہمیں کیوں آزمانے آ گئی ہے؟
جنابِ من! اُٹھیں اور اُٹھ کے دیکھیں
شبِ ہجراں رُلانے آ گئی ہے
رِدائے میرؔ اُوڑھے سو گئے کیا؟
غزل تم کو جگانے آ گئی ہے
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s