زندگی دشواریوں میں محو ہے

موت کی تیاریوں میں محو ہے
زندگی دشواریوں میں محو ہے
بچنا بیلوں کا بہت مشکل ہے اب
لومڑی مکاریوں میں محو ہے
کیا بنے گا میرے پاکستان کا
ہر کوئی غداریوں میں محو ہے
بےغرض بےکار بیٹھا ہے یہاں
خود نما خودداریوں میں محو ہے
قصر ڈھایا جا چکا لیکن ابھی
بارشہ درباریوں میں محو ہے
مر گیا تو کیا ہوا مرنا ہی تھا!
کون آہ و زاریوں میں محو ہے؟؟
سُن! زمیں کرب و بلا بننے لگی
اور تو دلداریوں میں محو ہے!!
یا خدا ! چشمِ نفس کو کیا ہوا؟
کھڑکیوں الماریوں میں محو ہے
چھوڑ دے پیچھا فلک کا ، وہ اگر
عورتوں بےچاریوں میں محو ہے،
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s