جہاں ، جہاں ، جہاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے

خدائے مہرباں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
جہاں ، جہاں ، جہاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے
میں چل پڑا تو حد ہوئی، ہر اک جگہ مدد ہوئی
قدیم آسماں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
نظر کی پیش گوئیاں ہیں آج بھی عُروج پر
عُروج، جاں بہ جاں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
ترا حُصول انتہائے معرفت ہے یا خدا!
فرازِ کُن فکاں کھُلا، صراطِ مُستقیم سے
بسر کیا گیا یہاں حیاتِ بے ثبات کو
ثبات بعد ازاں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
بُتوں کو چھوڑنا پڑا، مجھے یہ کھولنا پڑا
خدائے دِلبراں کھُلا صراطِ مُستقیم سے
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s