چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے
چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے
واعظانِ خوش ہوس کی جِھڑکیاں سُنتے ہوئے
لاشعوری طور پر ہم سرخوشی تک آ گئے
ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور خالی پیٹ ہم
ہنستے گاتے تھاپ سنتے ڈھولچی تک آ گئے
واہموں کی ناتمامی کا علاقہ چھوڑ کر
کچھ پرندے ہاتھ باندھے سبزگی تک آ گئے
بھائی بہنوں کی محبت کا نشہ مت پوچھیے
بےتکلّف ہو گئے تو گُدگُدی تک آ گئے
چاکِ تُہمت پر گُھمایا جا رہا تھا عشق کو
جب ہمارے اشک خوابِ خودکُشی تک آ گئے
گالیاں بکنے لگے ، غُصّے ہوئے ، لڑنے لگے
رقص کرتے کرتے ہم بھی خودسری تک آ گئے
اے حسیں لڑکی! تمھارے حُسن کے لذّت پرست
کافری سے سر بچا کر شاعری تک آ گئے
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s