یعنی روشن مزید ہوتے ہیں

آگ سے مُستفید ہوتے ہیں
یعنی روشن مزید ہوتے ہیں
سب روایت سے دُھل کے آتے ہیں
شعر جتنے جدید ہوتے ہیں
کیا یہ کم ہے کہ عشق کرنے پر
منھ پہ تھپڑ رسید ہوتے ہیں
یار! غازی نہیں ہوا کرتے
عشق میں سب شہید ہوتے ہیں
آپ کو دیکھ کر جو ہکلائیں
آپ کے زٙر خرید ہوتے ہیں
شعر کہنے میں احتیاط میاں!
لوگ انور سدید ہوتے ہیں
ہم تڑپتے ہیں اور وہ ہنس ہنس کر
محوِ گُفت و شُنید ہوتے ہیں
دیں بچاتے ہیں بیچ دیتے ہیں
مولوی بھی یٙزید ہوتے ہیں
یہ جو فتوا لگا ہے کافر کا
ایسے فتوے مُفید ہوتے ہیں
کچھ تو ہوتے ہیں پکّے پکّے مرد
اور کچھ رن مُرید ہوتے ہیں
وقت بھرتا ہے دھیرے دھیرے انھیں
زخم جتنے شدید ہوتے ہیں
ایسی سوچوں سے دور رہتے ہیں
ذہن جن سے پلید ہوتے ہیں
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s