یا کہیں بیٹھ کے رو لوں تو ہرا ہو جاؤں

روشنی آنکھوں پہ باندھوں تو ہرا ہو جاؤں
یا کہیں بیٹھ کے رو لوں تو ہرا ہو جاؤں
دشت کی دست درازی سے پریشاں ہو کر
پیڑ کے سائے میں بیٹھوں تو ہرا ہو جاؤں
سبز تعویز اتارے ہوئے مدت گزری
اب ترے حکم سے پہنوں تو ہرا ہو جاؤں
رات آفات کے جنگل میں گزاری میں نے
دن ترے ساتھ گزاروں تو ہرا ہو جاؤں
ہجر میں اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا مجھ سے
میں تری یاد میں ناچوں تو ہرا ہو جاؤں
موت کی مشق مشقت سے مبرا ہے فلک
بسترِ مرگ پہ لیٹوں تو ہرا ہو جاؤں
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s