دل ابھی پائمال مت کریو

وقفِ رنج و ملال مت کریو
دل ابھی پائمال مت کریو!
زخم دامن سمیٹ لیتے ھیں
دیکھیو! تم دھمال مت کریو!
کریو دشمن کو لاجواب تو یوں
اس سے کوئی سوال مت کریو!
میں ابھی بزدلوں میں بیٹھا ہوں
میرا گریہ بحال مت کریو!
دھیرے دھیرے ہی چھوڑیو ھم کو
ایک دم انتقال مت کریو!!!
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s