اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر

دِل پریشان ہے چل کوئی بات کر!
اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر!
آج مجھ میں سما! میری بانہوں میں آ!
میں اکیلا ہوں نیلم پری! بات کر!
بات کرتے ہوئے آج اُس نے کہا
چھوڑ رنجش پُرانی نئی بات کر!
میں چلا جاؤں گا یہ نگر چھوڑ کر
مختصر ہی سہی اجنبی! بات کر!
آخری بار میری طرف دیکھ لے
آخری بار مجھ سے مِری بات کر!
یوں نہ باتیں بنا دُشمنِ جان و دل
تیرے دِل میں ہے جو ، بس وہی بات کر!
میں براے سخن! آگیا ہوں یہاں
سُن مِری ان سُنی! ان کہی بات کر!
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s