پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت

سرسبز ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت
گلشن بہار و بخت سے مہکا دیا گیا
جب ہوش کھو رہے تھے مرے سامنے درخت
دیکھا ہے میں نے آج بڑے انہماک سے
بیدار ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
اِس خوابِ دل گداز کی تعبیر تو بتا
کل شام رو رہے تھے مرے سامنے درخت
پنچھی تمام رات مجھے گھورتے رہے
جنگل میں سو رہے تھے مرے سامنے درخت
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s