ذکر میرا شاعروں میں آ گیا

کافروں اور باغیوں میں آ گیا
ذکر میرا شاعروں میں آ گیا
روکتے ہیں یار مجھ کو عشق سے
میں یہ کیسے پاگلوں میں آ گیا؟
زخم کھاتا، خاک اُڑاتا ایک دن
میں بھی تیرے عاشقوں میں آ گیا
تُو نے میری سمت دیکھا اور پھر
نام تیرا قاتلوں میں آ گیا
یار! مجنوں کو اچانک کیا ہوا؟
چائے پینے کالجوں میں آ گیا!!
امن کا اجلاس جاری تھا ابھی
خوف اُڑ کر کِھڑکیوں میں آ گیا
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s