پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا

شبیہِ حُجرۂ وحشت بنا کے لایا تھا
پھر اُس کے بعد پرندے نے گھر بنایا تھا
لہو کا رنگ یقینا” سفید ہے بھائی!
کہ اُس ذلیل نے ماں پر بھی ہاتھ اُٹھایا تھا
ہوا سے باندھ کے بن میں گھسیٹ لایا ہوں
مرے چِراغ نے تیرا مذاق اُڑایا تھا
میں سینہ تان کے نکلا تھا جانبِ مقتل
کئی ہزار دعاؤں کا مجھ پہ سایہ تھا
یہاں پہ رقص کا مطلب ہے زندگی پیارے!
کہ اس جگہ مرے مُرشد نے سر جھُکایا تھا
مرے پڑوس میں رہتی ہے وہ پری پیکر
سُنا ہے جس نے محبت میں زہر کھایا تھا
حیا فروش محلّے کی عورتوں نے مجھے
تمھارے نام سے چھیڑا تھا ، ورغلایا تھا
مجھے تو آج بھی لگتا ہے میں پرندہ ہوں
کہ مجھ پہ بانجھ درختوں نے حق جتایا تھا
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s