ہوا کا ہاتھ بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا

چراغ وقت بچاتا ہے کھا نہیں جاتا
ہوا کا ہاتھ بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا
بزرگ پیڑ کی چھاؤں سے دور مت بیٹھو
یہ صرف ہاتھ اٹھاتا ہے کھا نہیں جاتا
یہ میرا باپ مرا آخری سہارا ہے
کما کے سب کو کھلاتا ہے کھا نہیں جاتا
چبا چبا کے نہ باتیں کرو ذرا تو کھلو
وہ سب کے درد بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا
یہ عشق ہے سو شرارت سے کام لیتا ہے
بڑے بڑوں کو نچاتا ہے کھا نہیں جاتا
وہ سیر چشم ہے ایسا کہ بھوک لگنے پر
جنوں میں خاک اڑاتا ہے کھا نہیں جاتا
خیالِ یار کا دریا چڑھا ہوا ہے مگر
گلے لگا کے بہاتا ہے کھا نہیں جاتا
تم اس خدا پہ ہنسو گے جو روزإ اول سے
ڈرے ہوؤں کو ڈراتا ہے کھا نہیں جاتا
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s