مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ

میں بُھول جاؤں نہ رکھ رکھاؤ ، نئے خُداؤ!
مِرے رقیبوں کو ڈھونڈ لاؤ ، نئے خُداؤ!
مِری حِماقت پہ قہقہے کیوں لگا رہے ہو؟
قفس ہے اپنا نیا پڑاؤ ، نئے خُداؤ!
میں کُوفیوں کی طرح نہیں ہوں کہ چھوڑ جاؤں
مِری محبّت ہے سبز ناؤ! نئے خُداؤ!
غریبِ شہرِ اجل کی خاطر نئے سُروں میں
بھجن پُرانا کوئی سُناؤ ، نئے خُداؤ!
خُدا پرستوں کو بیچنے میں بقا ہے سب کی
ہمیں بھی بیچو ، شرف کماؤ ، نئے خُداؤ!
نئے خُداؤں کا اِنتخاب آج ہو رہا ہے
بتاؤ کیسے کریں چناؤ؟ نئے خُداؤ!!
میں اِس سے پہلے کہ خُودکُشی کو حیات بخشوں
مِری، محبّت سے جاں چُھڑاؤ ، نئے خُداؤ!
افتخار فلک

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s