ہجرت

وہ عجب وقت تھا

قہر کا وقت تھا

کوئی بھی پہر اس وقت کو اپنے حصے میں لینے پہ راضی نہ تھا

چار آنے کے نقشے پہ نفرت کی انمٹ لکیر اس طرح سے لگائی گئی جیسے دھرتی کے سر اور دھڑ کو الگ کر کے دھرتی کی نسلوں کو آدھے ادھورے بدن کی حدوں میں ہی جینے کا بھاشن دیا جا رہا ہو

چار آنے کا نقشہ

چار آنے کے نقشے پہ حجت چلاتے ہوئے یہ کسی کو گوارا نہ تھا کہ وہ دھرتی کے بیٹوں سے ماؤں سے پوچھیں بھلا ان کو ہجرت سے مطلب بھی ہے؟

یا وہ اپنی ہی مٹی کی خوشبو میں پر کیف ہیں

چار آنے کے نقشے پہ نفرت کی انمٹ لکیر آزما دی گئی

سادہ لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کے پردے بچھائے گئے

سرحدی دشمنی مذہبی داؤ پیچ آزمائے گئے

وقتِ ہجرت اٹل ہو گیا

حکمِ ہجرت ملا

افراتفری کے عالم میں سب کے بچھوڑے کا وقت آ گیا

یار یاروں سے نظریں چراتے ہوئے منہ چھپانے لگے

یار یاروں کے ہی سامنے ذبح ہوتے رہے

ایک ہندو بہن کی مسلمان بھائی کو باندھی ہوئی ایک راکھی کہیں رہ گئی

محبت میں دیوانے دل بھی بچھڑ کر کئی قافلوں میں شہاوت بھری نظروں کی بھینٹ چڑھتے رہے

کہیں پر سہیلی کی گڑیا کسی اور سہیلی کے گڈے سے چھڑوا کے سامان کے ساتھ لاتے ہوئے راستے میں کہیں کھو گئی

کئی مائیں منہ بولے بیٹوں کو شفقت دیے بن زبردستی سرحد سے ہانکی گئیں

ہاتھ ہاتھوں سے چھڑوا کے نوکیلی باڑوں پہ وارے گئے

دھرتی آنسو بہاتی ہوئی رہ گئی

عصمتیں لٹ گئیں

قافلے جھڑ گئے

خون کے کتنے دریا بہائے گئے

سب کو آزادیِ ملک کی پھر نوید آ گئی

ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s