فاتح

یہ تری سوچ ہے

یہ تری سوچ ہے کہ میں بے کار ہوں

بے ضرر ہوں مرے دم سے دنیا کو خطرہ نہیں

میں کسی سرحدی دشمنی پر لہو کی لکیریں لگانے کا قائل نہیں

یعنی بزدل ہوں میں

میں شکاری نہیں

میں شکاری کی نظروں میں پھیلی ہوئی فاتحانہ کراہت پہ کیوں فخر کرتا نہیں

تیر کی روح کی بے بسی مجھ پہ واضح ہے جب وہ پرندے کی جانب نشانے پہ مجبور ہو

میں پروندوں کا قاتل نہیں

میں فسادات کروانے کی اہلیت بھی تو رکھتا نہیں

میری تحریر سے لوگ کیوں مشتعل ہو کے لڑتے نہیں

میرے الفاظ میں وہ روانی نہیں جو کہ انسانی لاشوں کو بحرِ جہنم کی جانب بہا لے جائے

یعنی میں بے حسی کے اس عہدِ زیاں کار میں درد جینے کا ماہر نہیں

میں تو شاعر نہیں

میں تو اپنی ہی سانسوں کو اپنے بدن کی حدوں میں مقید کیے جانے پر کتنا شرمندہ ہوں یہ مجھے علم ہے

میں بھلا کس طرح نسلِ آدم کو اک حاسدانہ لڑی میں پرو کے گلے میں سجا کر بڑے فخر سے چلنے والوں کے ساتھ ایک برتن میں جامِ محمد(ص) پیوں

میں محمد (ص) کی امت سے ہوں

میں تو قیدی بنانے پہ ایمان لاتا نہیں

یعنی فاتح نہیں

ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s