کہ جیسے درد پہ درمان بول پڑتے ہیں

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 11
کسی کے دھیان میں بے دھیان بول پڑتے ہیں
کہ جیسے درد پہ درمان بول پڑتے ہیں
یہ میرے قید نشیں نے کہا کہ بعض اوقات
مری خموشی پہ زندان بول پڑتے ہیں
تُو میرے دل میں بھی رہ کر سدا رہا خاموش
یہاں پر آ کے تو بے جان بول پڑتے ہیں
میں اس مقامِ سخن کی طلب میں ہوں کہ جہاں
صدائے چپ ہو تو دیوان بول پڑتے ہیں
کسی کے لمس کا احساس جان ڈالتا ہے
فقط یہ گل نہیں گلدان بول پڑتے ہیں
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s