گلاب برف کے نیچے تھے کوہساروں میں

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 10
کسی نے بھی تو نہیں جھانکا میری آنکھوں میں
گلاب برف کے نیچے تھے کوہساروں میں
وہ پوچھتی تھی کہ تم چھوڑ تو نہ جاؤ گے ؟
کئی جواب چھپے ہوتے ہیں سوالوں میں
کسی نے جنگ میں آواز تو اٹھائی تھی
وہ بچہ روتا رہا مردہ ماں کی بانہوں میں
ہم ایک دوسرے سے اور دور ہوتے گئے
کٹاؤ بڑھتا گیا جھیل کے کناروں میں
میں ورد کرتے ہوئے ایک دن نجف پہنچوں
گلے میں طوق ہو زنجیر بھی ہو پاؤں میں
مجھے جلایا گیا تھا چراغ کی لو میں
سو اب نظر نہیں آتا میں ان اجالوں میں
اے اپنے نام کی مورت بنانے والے سن
ہمیں بھی یاد کیا جاتا تھا خداؤں میں
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s