دعائیں پڑھ کے ہی شاید کبھی دعا کرتے

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 9
خدا کو لکھے گئے سارے خط پڑھا کرتے
دعائیں پڑھ کے ہی شاید کبھی دعا کرتے
ہم ایک ہوتے تو مدفون شہر میں جا کر
نئے سرے سے محبت کی ابتدا کرتے
مسافروں سے نہیں پوچھتے اجڑنے کا حال
مسافروں کے قبیلے نہیں ہوا کرتے
یہی نہیں کہ یہ میں ہوں تو بد لحاظ ہو تم
اگر حسین بھی ہوتے تو تم دغا کرتے
ہمارے سامنے بھیجا گیا تھا اپنا ہی خون
ہم اس سے ہار نہ جاتے تو اور کیا کرتے
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s