زمیں سے چند قدم پر ہی آسمان تھا دوست

ڈاکٹر وقار خان ۔ غزل نمبر 8
بدن کی آگ سے آگے بھی اک جہان تھا دوست
زمیں سے چند قدم پر ہی آسمان تھا دوست
میں یہ بھی کہتا نہیں جسم سے گریز کرو
مگر وہ جسم نہیں تھا کسی کا مان تھا دوست
میں راکھ ہوتے ہوئے شہر سے نکل نہ سکا
نظر کے سامنے بس ایک ہی مکان تھا دوست
شفق کی لابی کسی کانچ نیلگوں میں ڈھلی
افق کے پار کبھی درد کا نشان تھا دوست
اب اس کلائی میں کنگن نہیں ہیں جھریاں ہیں
شروعِ حسن سے ہی وقت درمیان تھا دوست
وہ تاج سر پہ نہیں عدل پر سجانا تھا
وہ اقتدار نہیں تھا وہ امتحان تھا دوست
بس ایک بیل ہی دیوار سے لپٹ رہی تھی
میں اس کا کچھ بھی نہیں تھا وہ میری جان تھا دوست
وہ مومی انگلیوں سے مجھ میں روشنی کرتی
جبیں پہ نور نہیں تھا اسی کا دھیان تھا دوست
مجھے بھی دفن کیا جا رہا تھا دنیا میں
وہ دنیا جس سے مرا دل ہی بدگمان تھا دوست
ڈاکٹر وقار خان

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s